سعد حسین رضوی

سعد حسین رضوی جیل سے رہا

سعد حسین رضوی

لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کو جمعرات کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا،

 جیل سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر نے تصدیق کی

ٹی ایل پی کے ترجمان مفتی عابد نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئےبتایا کہ سعد حسین رضوی صاحب رہائی کے بعد پارٹی کے ہیڈکوارٹرمسجد رحمت اللعالمین پہنچ گئے تھے۔ ٹی ایل پی کے سربراہ کے والد اور گروپ کے بانی خادم حسین رضوی کی برسی کی مناسبت سے عرس کل مسجد میں منعقد ہوگا۔

سعد حسین رضوی کو سپریم کورٹ کے فیڈرل ریویو بورڈ میں ان کی نظربندی اور ان کا نام فورتھ شیڈول سے نکالے جانے کے حوالے سے دائر ایک ریفرنس کو واپس لینے کے بعد رہا کیا گیا ہے –

محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے 10 نومبر کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ “حافظ محمد سعد کا نام کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے امیر ہونے کے ناطے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول میں درج کیا گیا ہے۔

حکومت نے 7 نومبر کو ٹی ایل پی کو ایکٹ کے پہلے شیڈول سے کالعدم تنظیم کے طور پر ہٹا دیا تھا۔

“لہذا، حافظ محمد سعد کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول کی فہرست سے فوری طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔”

پولیس نے سعد حسین رضوی کو اس سال 12 اپریل کو ٹی ایل پی کے منصوبہ بند احتجاج سے قبل گرفتار کیا تھا۔ اگلے دن، پولیس نے اے ٹی اے کی دفعات کے تحت ٹی ایل پی سربراہ کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی۔

سعد حسین رضوی کو پنجاب حکومت نے “امن عامہ کی بحالی (MPO)” کے لیے حراست میں لیا تھا۔ انہیں ابتدائی طور پر تین ماہ اور پھر 10 جولائی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دوبارہ حراست میں لیا گیا۔16 اپریل کو ان کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا۔

ملک بھر میں گروپ کے کارکنوں کے تین دن کے پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت نے رواں سال اپریل میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت ٹی ایل پی کو کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔

ٹی ایل پی کا احتجاج

سعد حسین رضوی کی رہائی ٹی ایل پی کے احتجاج اور گزشتہ ماہ حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد ہوئی ہے۔

یہ احتجاج، بنیادی طور پر پنجاب حکومت پر سعد حسین رضوی کی رہائی اور گستاخانہ خاکوں پر فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے لیے شروع کیا گیا، 20 اکتوبر کو

لاہور میں شروع ہوا اور جلد ہی پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔

بعد ازاں مظاہرین نے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا لیکن انہیں وزیر آباد میں روک دیا گیا جہاں حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔

 

Important Links

New Jobs 2022 AUSAF NEWS GOVERNMENT JOBS 2022

New Government Jobs in Pakistan Army Unit 2022

               New Election Commission of Pakistan jobs 2022PIC New Jobs 2022PIC New Jobs 2022

Latest Jobs

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.

Scroll to Top